نہ ڈوب کر جو اٹھے طرزِ مہر و ماہ نہ لی
مدد کو شاہ سے ہم نے کبھی سپاہ نہ لی
کسی نے دل کی زمیں پر یقیں اگر بویا
محبتوں نے کبھی خوف کی پناہ نہ لی
جہاں بھی سچ کی ہَوا نے کیے دیے روشن
مقدّروں نے وہاں رات پھر سیاہ نہ لی
کوئی بھی نفرتوں سے کیسے جیت سکتا تھا
سو اس نے عشق چنا دشمنی سراہ نہ لی
ہمیں بھی زیست نے پرکھا قدم قدم لیکن
ضمیر بیچ کے آسائشوں کی راہ نہ لی
ہزار زخم ملے پھر بھی مسکرا کے جئے
وفا نے درد تو مانگا پر اس کی چاہ نہ لی
وہ اپنے دل میں خدا کی حضوریوں میں رہا
کسی امیر کے در کی کبھی پناہ نہ لی
ہوا کے رخ پہ تھے جلتے ہوئے چراغ تھے ہم
جلے ہیں ہم بھی اگر پھر وفا نباہ نہ لی
ہے طارِق اہلِ محبت کی بس یہی میراث
کسی بھی عہد میں باطل سے ہم نے جاہ نہ لی

0
5