| چمن میں چار سو اک رنگِ دلربائی ہے |
| ہوا بہار کی پھر پھول لے کے آئی ہے |
| نگاہِ شوق کو نظارہ گر بنانے کو |
| نسیمِ صبح سہانی ادائیں لائی ہے |
| پرندے جھوم کے کرتے ہیں ذکرِ دلبر اب |
| فضا بھی نغمہ زنِ سازِ آشنائی ہے |
| جدھر بھی دیکھیے کھلتی ہے اک نئی دنیا |
| کہ روپ روپ میں اک رت نئی سجائی ہے |
| بجھا گئی جو دلِ زار کی تپش کو صبا |
| وہ تیرے نام سے منسوب اک ہوا ہی ہے |
معلومات