من کی بستی کو بسانے میں بہت دیر لگی
اپنی ہی ذات میں آنے میں بہت دیر لگی
میری آنکھوں پہ جو پٹی تھی لگائی اس نے
اسی پٹی کو ہٹانے میں بہت دیر لگی
میری نظروں میں سمائے تھے جو منظر سارے
ان نظاروں کو بھلانے میں بہت دیر لگی
میرے اپنوں نے بچھائے تھے جو کانٹے یارو
ان ہی کانٹوں کو ہٹانے میں بہت دیر لگی
مجھ کو بچپن سے جو افکار سکھائے سبھی نے
وہی افکار بھلانے میں بہت دیر لگی
خود سے روٹھا ہوا رہتا تھا میں ہر دم گم سم
اپنے ہی من کو منانے میں بہت دیر لگی
ایسی کشتی جو بھنور ہی کی طرف دار رہی
ایسی کشتی کو جلانے میں بہت دیر لگی
شعر اوروں کے کیے یاد تھے کافی میں نے
اک غزل اپنی بنانے میں بہت دیر لگی
GMKHAN

0
1