| اثر نگاہ کا دل پر عیاں بھی ہوتا رہا |
| اسی سبب سے یقیں پر گماں بھی ہوتا رہا |
| ترے خیال کی خوشبو تھی میرے چاروں طرف |
| اسی سے گھر کا معطّر سماں بھی ہوتا رہا |
| عجیب طرزِ محبت تھا تیری قربت کا |
| میں جل کے خاک بھی اور گلستاں بھی ہوتا رہا |
| وہ ایک لمحہ کہ جس میں تُو سامنے آیا |
| تمام عمر وہی ضو فشاں بھی ہوتا رہا |
| میں ڈھونڈتا رہا تجھ کو کتابِ ہستی میں |
| ہر اک ورق پہ نیا اک جہاں بھی ہوتا رہا |
| فراق تیرا مرے واسطے عذاب نہ تھا |
| یہ درد میرا تو روحِ رواں بھی ہوتا رہا |
| میں اپنی ذات کے صحرا میں جب اترتا گیا |
| وجود میرا کہیں بیکراں بھی ہوتا رہا |
| میں تیرے نقشِ قدم پر خدا کو ڈھونڈا کیا |
| تری طلب ہی میں بے خانُماں بھی ہوتا رہا |
| نہ جانے عشق میں کیا راز تھا کہ اے طارِق |
| جو زخم دینے کو نکلا اماں بھی ہوتا رہا |
معلومات