مرے بزرگوں نے مجھ کو یقین سونپا تھا
میں اس یقین کی بنیاد کھوجنے نکلا
وہ روشنی جو کئی نسلوں کی امانت تھی
میں اس چراغ کی ماہیت پوچھنے نکلا
ہر ایک کشف نے اک اور شک کو جنم دیا
ہر ایک جواب نے اک اور باب کھول دیا
میں جس کو علم کی معراج جانتا تھا کبھی
اسی نے مجھ پہ مری بے خبری کو کھول دیا
وہ اپنے عہد کے سچ پر یقین رکھتے تھے
میں اپنے عہد کے سچ سے بھی بدگماں نکلا
وہ جن کو اپنی صداقت پہ ناز تھا، آخر
میں ان کے فہم سے بڑھ کر بھی بے اماں نکلا
عجب کہ ان سے اختلاف عمر بھر کا رہا
مگر انہی کی طلب میری ذات میں جاگی
وہ اپنے عہد کا حاصل یقیں سمجھتے رہے
مجھے یقین نہ آیا، مگر تلاش ملی

0
1