| اے دلِ بے تاب اب ترکِ غمِ ایّام کر |
| جامِ الفت لے، شبِ ہجراں کو اب گلفام کر |
| عمر گزری فکرِ دنیا میں، ملا ہے کیا تجھے |
| اب ذرا ذکرِ خدا سے زندگی کا کام کر |
| راہِ الفت میں اگر رسوائی آئے، آنے دے |
| ڈوب کر دریائے الفت میں خودی کو خام کر |
| عقل کہتی ہے کہ دنیا کی روش پر چل ذرا |
| عشق کہتا ہے کہ بس محبوب پر دل رام کر |
| آنکھ کے پانی سے کر تیار مستی کی شراب |
| آہ کو تسبیح کر، خاموشی کو پیغام کر |
| لوگ کیا کہتے ہیں، اس کی فکر کرنا چھوڑ دے |
| اپنی ہستی عشق کے دریا میں تو تمام کر |
| کب تلک کوچہ بہ کوچہ بھٹکے گا، اے بے خبر |
| ایک در پر جا کے اپنا یہ سفر انجام کر |
| عتیقؔ اس بزمِ جہاں میں نام کی نہ کر فکر |
| نامِ احمد ﷺ پر تصدق اپنے صبح و شام کر |
معلومات