جس در کی ہر زباں پر نغمہ سرائی آئی
میرے نصیب میں اس در کی گدائی آئی
مشہور دو جہاں میں جود و سخا تیری ہے
تجھ سے ہی مانگنے ہے ساری خُدائی آئی
جس نے جھکایا ہے سر اپنا نبی کے در پر
قسمت میں اس کے عالم کی بھلائی آئی
جو منگتا بن کےبیٹھا آکر ہے در پہ تیرے
اس کو نہ رحمتِ رب سے پھر جدائی آئی
جب نام تیرا لب پر میرے ہے آ گیا،تو
میری طرف خوشی بھی سر کو جھکائی آئی
عاجز کو ناز اپنی قسمت پہ ہے اے مولی
قسمت میں اس کے تیری نغمہ سرائی آئی

0
15