| روشنی باقی رہی ہے تیرگی کے باوجود |
| ہم نے دیکھا ہے یقیں کو بےبسی کے باوجود |
| دل کے اندر اک دیا جلتا رہا خاموش سا |
| جیت پایا کب اندھیرا خود سری کے باوجود |
| ہم نے خود سے بھی چھپایا درد کا سارا سفر |
| مسکراتا ہی رہا چہرہ نمی کے باوجود |
| خواب ٹوٹے بھی تو آنکھوں نے بغاوت کی نہیں |
| دل کا جاری ہے سفر افسردگی کے باوجود |
| اک حقیقت راستہ بنتی رہی ہر موڑ پر |
| کیوں بھٹکتے ہی رہے سب رہبری کے باوجود |
| وقت نے ہم کو شکستہ خط میں لکھّا جب لکھا |
| ہم مکمل ہو نہ پائے آگہی کے باوجود |
| دھوپ میں بھی سایۂ امید قائم ہی رہا |
| دل دھڑکتا ہی رہا ہے بے کلی کے باوجود |
| ہم نے سچائی کو اکثر آنکھ سے اوجھل کیا |
| حرف نے بھی گفتگو کی خامشی کے باوجود |
| زخم نے خود ہی بنا لی روشنی کی اک لکیر |
| درد روشن ہو گیا چارہ گری کے باوجود |
| آپ سی دیکھی نہیں ہے ہوشمندی کی مثال |
| عقل سے بھی دوستی ہے عاشقی کے باوجود |
| کون سمجھائے انہیں دریا کنارے بیٹھ کر |
| جو نہیں پیتے ہیں پانی تشنگی کے باوجود |
| زندگی کو ہم نے طارِق یوں گزارا ہے یہاں |
| فتح پائی ہے دلوں پر بے رُخی کے باوجود |
معلومات