صدیوں تک راجپوتوں نے کیا شان و شوکت سے راج
مگر وہ جاہ و جلال نہ رہا جو تھا کل کا آج
میدانِ جنگ میں ہمیشہ رہے شیرِ دل اور دلیر
تیغ و سناں کے سائے میں لکھتے رہے فتح کی تحریر
بدقسمتی کہ آج باہمی اتحاد کا ہے شدید فقدان
ورنہ کون چھین سکتا تھا ہم سے عظمت و شان
دیگر اقوام بڑھ گئیں ہیں ہم سے آگے اس زمان
ہم نے خود ہی کم کر لی اپنی ہمت اور پہچان
محنت، علم اور اتحاد سے بدلے گا اپنا حال
پھر لوٹے گی راجپوتوں کی کھوئی ہوئی وہ شان و کمال
شاید عمران کے اشعار لگیں کسی کو ذرا تلخ و ناگوار
مگر حقیقتوں سے آخر کب تک کیا جا سکتا ہے انکار

0
68