ترے خیال کی خوشبو سے گھر مہکتا ہے
کہ دل یہ تیرے تصور سے آہ بھرتا ہے
کسی کے لمس کی خواہش کسی کی یاد کا نور
یہ کون شخص ہے سینے میں جو دھڑکتا ہے
وہ ایک نام جو لب پر کبھی نہیں آیا
وہی تو میرے لہو میں مدام بہتا ہے
ترے بغیر بھی دنیا ہے خوبصورت پر
یہ دل تو دیکھتا تجھ کو ہمیشہ رہتا ہے
ترا ہی عکس دِکھے اُس میں مسکراتا ہوا
کبھی جو چاند دریچے پہ آ ٹھہرتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے نکل پڑا ہوں مگر
نظر میں میری فقط ایک تیرا رستہ ہے
نہ جانے عشق نے کیا راز مجھ پہ کھولا یہ
جو زخم دیتا ہے اس کو بھلا بھی سکتا ہے
یہ کیسی قربتِ جاں ہے کہ دور رہ کر بھی
یہ زخم ہجر کا اندر کہیں سسکتا ہے
ترے سکوت میں پوشیدہ گفتگو سن کر
یہ منتظر تو مرا دل کرم کا رہتا ہے
محبتوں کا کوئی آخری کنارہ نہیں
کہ جو بھی ڈوبتا جائے وہی ابھرتا ہے
ہے یہ بھی عشق کا طارِق کرم سمجھ لے تُو
وہی جو پاس ہے دل میں ترے بھی رہتا ہے

0
4