| اک گھونٹ مے کے پینے سے ایمان بِک گیا |
| یوں کوڑیوں کے بھاؤ ہے انسان بِک گیا |
| فصلیں تو بِک رہیں تھیں ہمارے وطن کی روز |
| لو آج کی خبر ہے کہ دہکان بِک گیا |
| حفظِ چمن کے نام پہ مالک بنا تھا جو |
| کر کے وہ ہم کو آج تو حیران بِک گیا |
| جس نے اٹھایا حلف وطن سے وفا کا تھا |
| حاکم وہ اپنا توڑ کے پیمان بِک گیا |
| کہتے ہیں عکسِ عام ہی ہوتے ہیں حکمراں |
| وہ کر کے جاری ایسا ہی فرمان بِک گیا |
| محبوب جو ہمارے تھے دولت پرست تو |
| ہم جیسے کنگلے کا ہر ارمان بِک گیا |
| حالات شاعروں کے ہی جیسے ہیں اپنے بھی |
| اچھا ہوا جو اپنا بھی دیوان بِک گیا |
معلومات