| بدلا جو رنگ آپ نے موسم بدل گیا |
| بن آگ کے ہی دیکھئے لوہا پگھل گیا |
| میری اڑان قید پرندوں نے دیکھ کر |
| طعنہ کسا کہ ہاتھ سے لڑکا نکل گیا |
| صاحب کے نام کی تو غضب دھوم ہے یہاں |
| کھوٹا بھی ہے تو کیا ہوا سکہ تو چل گیا |
| خود کو تباہ خود ہی کیا خود کے ہاتھ سے |
| پالا تھا میں نے سانپ تو مجھ کو نگل گیا |
| مسجد میں دیکھ کر مجھے کہتے ہیں شیخ جی |
| بگڑا ہوا جوان بھی آخر سنبھل گیا |
| زاہد کے زہد پر نہ اٹھاؤ جی انگلیاں |
| دل کا تو کام ہی ہے مچلنا، مچل گیا |
| طیب مزاجِ یار سمجھ کر ہی بولنا |
| دامن ادب کا چھوڑنے والا تو جل گیا |
معلومات