| گھر کے آنگن میں کوئی پیڑ ہرا ہے کہ نہیں |
| کھڑکیاں بھی ہیں مگر تازہ ہوا ہے کہ نہیں |
| سوچ پلکوں پہ کئی رنگ ابھر آئے ہیں |
| کوئی چہرہ پسِ آئینہ چھپا ہے کہ نہیں |
| شور گلیوں سے مسلسل جو یہاں اٹھتا ہے |
| مشترک اس میں مری آہ بکا ہے کہ نہیں |
| آنکھ منظر سے جو ہمزاد مرا غائب ہے |
| سایۂ جاں بھی ترا تجھ سے جدا ہے کہ نہیں |
| میں نے امید کی شمعیں تو جلا رکھی ہیں |
| میرے اندر ابھی امکانِ دعا ہے کہ نہیں |
| دل کے آئینے میں اک عکس چھپا ہے کہ نہیں |
| کون بستا ہے یہاں تمہیں پتا ہے کہ نہیں |
| کون ہے جس نے یہ منظر ہمیں دکھلایا ہے |
| اس کے ہونے کا کوئی بھید کھلا ہے کہ نہیں |
| وہ تو نقّاد ہیں تنقید کریں گے شاعر |
| تیری تخلیق میں کچھ حسنِ ادا ہے کہ نہیں |
معلومات