تیری ہستی گر کسی کے واسطے بھی بار ہے
سجدہ تیرا، بندگی تیری سبھی بیکار ہے
دوسروں کو جو اذیت دے رہا ہے رات دن
رحمتِ رب کا بھلا کب آدمی حقدار ہے؟
کس لیے ہے پھر تجھے اپنی عبادت پر غرور
جب ترا ہم جنس ہی تجھ سے سدا بیزار ہے
تو نے توڑا ہے اگر اک بے سہارا دل کبھی
حشر کے دن تو خدا کے سامنے لاچار ہے
شادؔ دنیا میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
عشق کے بن آدمی مٹی کا بس انبار ہے

0
1