اندھیروں میں، اُجالوں میں خدا کا نور ہے ظاہر
ہر اک ذرے گلستاں میں وہی معمور ہے ظاہر
چراغِ دل اگر روشن ہو اُس کے فیضِ رحمت سے
نظر آتا ہمیں پھر ہر طرف دستور ہے ظاہر
خرد حیران رہتی ہے، محبت مسکراتی ہے
ترے ہونے سے ذرہ ذرہ بھی مخمور ہے ظاہر
وفاؤں کی مہک سے ہو گیا جو روح مہکیلا
دلِ انسان پر پھر عشق کا منشور ہے ظاہر
حقیقت کی تجلی سے منور ہو جو آئینہ
اُسی کے سامنے ہر باطل و مغرور ہے ظاہر
نہاں ہے اُس کی قدرت بھی ہوا کے نرم جھونکوں میں
سمندر کے تلاطم میں امر دستور ہے ظاہر
کبھی خاموش لمحوں میں اتر آتی ہے راحت بھی
مرے دل پر وہی رحمت وہی پرنور ہے ظاہر
ازل سے تا ابد پھیلا ہے فیضانِ کرم ارشدؔ
زمانے کی ہر اک شے پر اُسی کا نور ہے ظاہر
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
2