اے سرابِ زندگی، ہم نہیں ہوں گے خجل
فیصلہ ہے آخری، فیصلہ ہے یہ اٹل
سوچ کر چلیں گے ہم، چال آخری ابھی
اے بساطِ زندگی، ایک پل بس ایک پل
سجدہ میں کروں تو کیوں، آدمی کے سامنے؟
میں فرشتہ تو نہیں ، اے خدائے لم یزل
حجرۂ وجود میں، زندگی اسی سے تھی
اس نے رخ پلٹ لیا، چھا گئی وہیں اجل
اپنی ذات ہے مری، یا میں کوئی عکس ہوں
یہ معمۂ وجود،  کون کر سکا ہے حل
جشن اٹھ کے جانے  کا، کیوں بپا ہے چار سو
کب میں اپنے آپ کو، مانتا تھا بے بدل

0
4