| نفس نفس پہ جو یادوں کی پہرہ داری ہے |
| خوشا یہ عمر کہ جو قید میں گزاری ہے |
| - |
| محبتوں میں خوشی چند پل ہی ہوتی ہے |
| پھر اس کے بعد شب و روز آہ و زاری ہے |
| ۔ |
| یہ دن تو کارِ جہاں میں گزر ہی جاتا ہے |
| ہمارے واسطے ہر شام ، غم شماری ہے |
| ۔ |
| یہ ایک فرق نمایاں ہے مجھ میں اور تجھ میں |
| کہ میں نے زندگی کاٹی تو نے گزاری ہے |
| ۔ |
| کیا ہے ہم نے عبادت سمجھ کے کارِ جنوں |
| خدائے کن فیکوں اب رضا تمھاری ہے |
| ۔ |
| خیال و لفظ سے منظر ابھر کے آتے ہیں |
| مدثر ایک طرح شعر نقش کاری ہے |
معلومات