مسافرو۔۔۔!
دبے پاؤں گزر جاؤ
اِس دشتِ خرد فرسا سے
طلسمِ ہوش رُبا سے
جہاں یہ افواہ گردش میں ہے
کہ لوگ بھٹک جاتے ہیں
اِک پیکرِ سحر انگیز کے پیچھے
اُس حسینۂ فتنہ خیز کے پیچھے
جو کسی کا رستہ کاٹ لے تو پھر
اُسے قافلوں کی خبر نہیں رہتی
اُسے منزلوں کی فکر نہیں رہتی
اُس لاپتہ مریضِ بے نوا کو
کوئی رہبر و چارہ گر نہیں ملتا
راہِ راست پہ جو لے آئے
ایسا دستِ خضر نہیں ملتا!

0
1