| یہ نا مہرباں سے رویے جہاں کے |
| لیے جا رہے ہیں ہر اک روز مجھ کو |
| کسی سوچ کے اندھے جنگل میں جیسے |
| جہاں سے پلٹنا |
| کسی طور ممکن نہیں ہے |
| ہیں کچھ وسوسے ، ایسی مایوس کن سوچیں، جن سے |
| تمنائیں جینے کی مرنے لگی ہیں |
| یہ سانسیں بھی جیسے اکھڑنے لگی ہیں |
| مقدر ، مشیت |
| یہاں تک وجودِ خدا پر اٹھیں |
| مرے ذہن میں ایسے تیکھے سوالات |
| کہ دل کہہ اٹھے الاماں الاماں |
| مگر پھر اچانک کہیں سے |
| دکھاتا ہے رب روشنی کی کرن |
| امید و یقیں کی کوئی اک چمک |
| ہر اک ذرۂ کائنات |
| حلاوت سے ایماں کی لبریز کہتا ہے پھر |
| کہ تیرا خدا |
| کسی جاں پہ اس کی سکت سے زیادہ |
| کوئی بوجھ رکھتا کبھی بھی نہیں ہے |
| تو پھر بے تکلف یہ دل کہہ اٹھے ہے |
| کہ ہاں ہاں خدا ہے |
| خدا ہے خدا ہے |
| - |
معلومات