| غمِ عشق تیرے ستم کا اثر ہے |
| مجھے اب نہ کوئی کسی کی خبر ہے |
| یوں پھیلا ہوا زہر تیرا ہے مجھ میں |
| اگر سانس بھی لوں تو جلتا جگر ہے |
| ترے عشق نے مجھ کو دی ہے یہ شہرت |
| مجھے جانتا اب تو یہ شہر بھر ہے |
| چھپا مت مجھے چارہ گر تو بتا دے |
| دوا چارہ گر کیوں تری بے اثر ہے |
| ذرا سوچ کر تم یہ پتھر اٹھانا |
| کہ ساگر ترا بھی تو شیشے کا گھر ہے |
معلومات