ہے آدمی بھلا، جسے بیوی کا ڈر بھی ہو
حوروں کا اس کے دل میں مگر ایک گھر بھی ہو
دنیا کی رونقیں اسے گمرہ نہ کر سکیں
بیوی نے جو کہا اسے اس کا اثر بھی ہو
زوجہ کو اعتبار نہ شوہر پہ ہو کبھی
چاہے معاشرے میں بہت معتبر بھی ہو
دنیا کی مستیوں سے اگر بھر چکا ہے دل
اب آخرت کا غم تجھے شام و سحر بھی ہو
حوروں کی آرزو بھی اگرچہ غلط نہیں
اعمال ایسے کر، ترا حق حور پر بھی ہو

0
3