یادِ نبی میں رہتی تازہ ہے زندگی
دارِ سخی پہ آئیں حاصل ہو تازگی
نقشِ قدم کریمی دیں کامرانیاں
الطافِ مصطفیٰ میں سکھ چین آشتی
آیا سکون دل کو راحت میں جان ہے
لائے حبیبِ یزداں قرآن روشنی
طاغوت سے بچائے آسانیاں کرے
جو دینِ مصطفیٰ ہے مقصودِ زندگی
تاباں کرے یہ جینا سینے میں روشنی
پیارا ہے دینِ حق جو لایا یہ دلکشی
لطفِ حیات اس سے کافور کلفتیں
ذکرِ نبی ہے دیتا ہستی کو چاندنی
الطافِ دلربا سے ملتا قرار ہے
دینِ متیں کو بخشی مولا نے چاشنی
مومن حیات تیری آسانیاں بھری
سنت پہ ہو عمل ہے مقصودِ بندگی
دستورِ زندگی ہیں سارے عیاں ہوئے
سرکار سے شریعت سب سے حسیں ملی
کوئی تو ہے تقاضہ حسنِ حیات کا
ہوتی عبس کہاں ہے مومن یہ زندگی
پہچانِ حق و باطل آسان ہو گئی
محمود کبریا سے مومن کو آگہی

0
1
3
یہ نعت شریف ایک نہایت بلیغ اور روح پرور پیغام رکھتی ہے، جس کا مرکزی خیال یادِ مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے حیات کی تازگی، سکون، اور ہدایت ہے۔

0