غبارِ دشت میں سب کچھ پگھل گیا ہو گا
وہ بھی تو میری طرح سے بدل گیا ہو گا
میں جانتا ہوں کہ گھر بار چھوڑ کر اپنا
مری تلاش میں کوئی نکل گیا ہو گا
خزاں کا طور بتاتا ہے مجھ کو گل کی خبر
وہاں چمن بھی حوادث میں جل گیا ہو گا
اب اس مقام سے لانا اسے نہیں ممکن
وہ گردشِ شب و روزاں میں ڈھل گیا ہو گا
مرے رقیب کے ہاتھوں سے نور ہو جاری
حنا وہ اس کی ہتھیلی پہ مل گیا ہو گا
یہ لہریں دیکھ لو کھنگال کے ذرا ساگر
بدن کسی کا سمندر میں گل گیا ہو گا

0
3