| دردِ جدائی میرے پہلو میں ڈال کر |
| وہ چل پڑے ہیں میری سانسیں نکال کر |
| نازک بدن پہ ڈھاتے ہو اس قدر ستم |
| اے دشمنِ جاں میرا کچھ تو خیال کر |
| میں ہار جاتا ہوں پھر ان سے بساط دل |
| وہ جیت جاتے ہیں اک سکہ اچھال کر |
| میں بھی نکالتا ہوں ملنے کی راہ پھر |
| تم سے بھی ہو سکے تو رشتہ بحال کر |
| یہ تجھ پہ منحصر ہے میری مجال کیا |
| تازہ ستم اٹھا اور جینا محال کر |
| اے زندگی ترا پرچہ سخت ہے بہت |
| یہ عرض ہے تجھی سے سادہ سوال کر |
| وہ آج مجھ کو ساغر ڈستے ہیں رات دن |
| جن کو رکھا تھا میں نے ہاتھوں میں پال کر |
معلومات