| محبت کا یہ کشکولِ وفا محفوظ رکھنا تم |
| کہ اس میں چھید ہو جائے تو سب کچھ کھو نہ بیٹھو تم |
| خلوص و چاہتوں کا فیض اسی میں جمع رہتا ہے |
| ذرا سی دراڑ پڑ جائے تو پھر خالی نہ رہ جائے تم |
| ہوا کے ساتھ رشتوں کی صداقت بھی بکھرتی ہے |
| اگر پہرہ نہ دو اس پر تو پھر سنبھلو نہ بیٹھو تم |
| یہ دنیا وقت کے ہاتھوں سبھی کچھ آزما لیتی |
| زیدیؔ دل کی امانت کو کہیں رسوا نہ کر بیٹھو تم |
معلومات