ہجومِ شہر میں دل کا پتا نہیں ملتا
صدائے ذات کا اندر سرا نہیں ملتا
​بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکون کا کوئی خلا نہیں ملتا
​تعلقات میں ایسی تھکن سی طاری ہے
ہمارے حال پہ کوئی خفا نہیں ملتا
​ہماری رات کی تاریکیاں نہیں جاتیں
کہیں امید کا کوئی دِیا نہیں ملتا
​ہمیں تو اپنی ہی بربادیوں کا ماتم ہے
کسی سے بھی ہمیں کوئی گِلا نہیں ملتا
​زمیں پہ سجدہ گزاروں کی بھیڑ ہے لیکن
کسی یقین کا کوئی خُدا نہیں ملتا
​محبتوں کا زمانے میں اے مرے شادؔ اب
وفا کریں بھی تو ہم کو صِلہ نہیں ملتا

0
7