| ذروں سے فلک تک وہ سلطان محمد ﷺ ہے |
| دونوں ہی جہاں میں تو، فیضانِ محمد ﷺ ہے |
| ہیں خلقِ بشر وہ بھی، ظاہر تو مگر دیکھو |
| خلقت سے جدا ہر اک، کیا شانِ محمد ﷺ ہے |
| روشن ہے وہ چہرہ کہ تابانی قمر بھولے |
| ہر نور یہی کہتا، پہچانِ محمد ﷺ ہے |
| معراج کی شب میں یوں جبریلِ امیں بولے |
| سدرہ سے پرے اب تو، عرفانِ محمد ﷺ ہے |
| ہے "فَاتَّبِعُوْنِیْ" میں ہر رازِ نہاں لوگو |
| جو چاہو خدا کو تو، دامانِ محمد ﷺ ہے |
| سب روزِ قیامت میں ڈھونڈیں گے شفاعت کو |
| ہر لب پہ یہی ہوگا، میدانِ محمد ﷺ ہے |
| وہ حوض پے خود جامِ کوثر جو پلائیں گے |
| ہم تشنہ لبوں پر یہ، احسانِ محمد ﷺ ہے |
| محشر میں بَسِ اتنا ہی کافی ہے منورؔ کو |
| خود رب ہی کہے یہ تو، قربان محمد ﷺ ہے |
معلومات