اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جتنے ثبوت تھے تیرے ہی نشان نکلے
حق میں ہمارے کس کے منہ سے زبان نکلے
جس طرح کی عنائت پروردگارِ نے کی
کس واسطے یہ آدم بھی مہربان نکلے
کیا حوصلہ ملا ہے اس شخص کو کہیں سے
ہر ایک آزمائش میں جو چٹان نکلے
تو ہی ذرا بتا دے کس طرح سے بھلا دے
جس کے قریب سب تیرے ترجمان نکلے
شکوہ یہی مجھے قدرت کے نظام سے ہے
اک زخم میرا ہی کیوں ہر دن جوان نکلے
آزاد ہوتے تو مرضی سے گزار جاتے
اب قید میں پرندوں کی کیا اڑان نکلے

0
3