میرے لبوں پہ یارو حق بات جب بھی آئی
سچ بولنے کی ہے پھر میں نے سزا ہی پائی
بنتی نہیں کچھ اپنی سلطانِ وقتِ کے ساتھ
میں طالبِ خدا ہوں، وہ طالبِ خدائی
رکھتا ہوں باب اپنا اس واسطے مقفل
داخل نہ ہو یزیدی یا پھر کوئی سبائی
زندانِ عشق کا اک مظلوم سا ہوں قیدی
دلبر ملا نہ ہی پھر مجھ کو ملی رہائی
۔
ورثے میں گر ملے تو ہوتی نہیں کوئی قدر
سچ اس معاشرے نے یہ بات کر دکھائی
۔
ہرگز نہ کی مدثر ہم ایسے باغیوں نے
شمشیر کے تلے بھی شاہوں کی واہوائی

2
63
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

0
آمین جی شکریہ

0