| میرے لبوں پہ یارو حق بات جب بھی آئی |
| سچ بولنے کی ہے پھر میں نے سزا ہی پائی |
| بنتی نہیں کچھ اپنی سلطانِ وقتِ کے ساتھ |
| میں طالبِ خدا ہوں، وہ طالبِ خدائی |
| رکھتا ہوں باب اپنا اس واسطے مقفل |
| داخل نہ ہو یزیدی یا پھر کوئی سبائی |
| زندانِ عشق کا اک مظلوم سا ہوں قیدی |
| دلبر ملا نہ ہی پھر مجھ کو ملی رہائی |
| ۔ |
| ورثے میں گر ملے تو ہوتی نہیں کوئی قدر |
| سچ اس معاشرے نے یہ بات کر دکھائی |
| ۔ |
| ہرگز نہ کی مدثر ہم ایسے باغیوں نے |
| شمشیر کے تلے بھی شاہوں کی واہوائی |
معلومات