| جفا کا ہر ستم دل میں مرے آباد رہنے دو |
| یوں اس آبادئ غم سے مجھے برباد رہنے دو |
| نہ چھیڑو رازِ الفت میں جفا کے اُس فسانے کو |
| بگڑ جائے گا دردِ دل اسے بس یاد رہنے دو |
| جدائی کا کوئی قصہ اگرچہ زیرِ لب آئے |
| نہ سمجھو اس کو شکوہ تم اسے فریاد رہنے دو |
| نہ کر لو قید زنداں میں کہ یہ نالاں سا اک پنچھی |
| ہوا کی جستجو میں ہے اسے آزاد رہنے دو |
| محبت کے ستم سارے مزہ دیتے ہیں سو یارو |
| ہمیں تم صید ہی سمجھو اسے صیاد رہنے دو |
معلومات