جفا کا ہر ستم دل میں مرے آباد رہنے دو
یوں اس آبادئ غم سے مجھے برباد رہنے دو
نہ چھیڑو رازِ الفت میں جفا کے اُس فسانے کو
بگڑ جائے گا دردِ دل اسے بس یاد رہنے دو
جدائی کا کوئی قصہ اگرچہ زیرِ لب آئے
نہ سمجھو اس کو شکوہ تم اسے فریاد رہنے دو
نہ کر لو قید زندا‍ں میں کہ یہ نالاں سا اک پنچھی
ہوا کی جستجو میں ہے اسے آزاد رہنے دو
محبت کے ستم سارے مزہ دیتے ہیں سو یارو
ہمیں تم صید ہی سمجھو اسے صیاد رہنے دو

0
54