بچپن کے وہ لمحے سارے یاد آئے بہت
مل کر جو بھی دن گزارے یاد آئے بہت
سب ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہتے تھے جو
وہ جاں سے پیارے سہارے یاد آئے بہت
مل کر ہمارا بچھڑنا بھی مقدر میں تھا
ہم کو مقدر ہمارے یاد آئے بہت
لوگوں نے پتھر جو بھی مارے بھلا ہی دیئے
جو پھول اپنوں نے مارے یاد آئے بہت
جب لہروں کے درمیاں ہم ڈوبنے والے تھے
اس وقت ہم کو کنارے یاد آئے بہت

5