جزبہ کو اپنے دکھانا چاہئے
جھکتی ہے دنیا جھکانا چاہئے
ناز ہے مسکان تیرے نعرہ پر
ایسی ہمت بھی جتانا چاہئے
آندھی سے ٹکرانے کا ہو ولولہ
پانی فِتِّن کو پلانا چاہئے
جوشِ ایماں کا تقاضہ ہے یہی
آنکھیں دشمن سے ملانا چاہئے
امتحاں گر سامنے آئے یہاں
زورِ بازو آزمانا چاہئے
وقتِ نازک جب پڑے تو آگے ہو
ذات کو اپنے مٹانا چاہئے
فکریں ناصؔر اوڑھ لیتے ہیں کہیں
قوم کا قرضہ چکانا چاہئے

0
41