عجب کھیل ہے داستانِ محبت
ستم ہے ستم کو سہے جا رہے ہیں
کنارے کو پانا جو ممکن ہے پھر بھی
یوں موجوں میں ایسے بہے جا رہے ہیں
محبت، محبت، ہماری محبت
سدا ہو امر یہ کہے جا رہے ہیں
وہ شاہِ عدن کا ملک بدر ہونا
وہ یوسف کی یادوں میں زونی کا رونا
پھر اشکوں سے دلگیر غزلیں پرونا
ہمیں رشک آئے ہماری سنو تم
کہ زونی بنیں گے جو یوسف بنو تم
یہ فرقت محبت کو قائم رکھے ہے
جو دوری ہے حائل بری تو نہیں ہے
سو اس کو بھلا کیوں مٹائے کوئی پھر
کہ کیا ہے محبت بتائے کوئی پھر
اگر قصۂ درد و ہجراں نہیں ہے
تو لیلیٰ و مجنوں کا قصہ غلط ہے؟
وفا کا وہ مٹکا وہ دریا غلط ہے؟
وہ شیریں وہ فرہاد سب کچھ غلط ہے؟
محبت کے معنی حقیقت میں یہ ہیں
جدائی، جدائی، فقط یہ جدائی
جدائی سے ہی یہ محبت امر ہے
جدائی امر ہو محبت امر ہے
جدائی جہاں ہے محبت وہیں ہے
جدائی نہ ہو تو محبت نہیں ہے

0
5