چاند تھا ہی نہ بسکہ ہالہ تھا
جس نے پہنا لباس کالا تھا
ڈھل گیا کج روی میں ہی اپنی
کوئی خاکہ جسے سنبھالا تھا
نقطۂ انجماد تک آیا
ایک سورج جو دل نے پالا تھا
عمر بھر دیکھتی رہی آنکھیں
دل نے کیا بُلبُلہ اچھالا تھا
روک رکھا تھا بھوک نے ورنہ
دیر تک سامنے نوالہ تھا
دشت میں آکے کیسے یاد کروں
گھر سے کس بات نے نکالا تھا
تجھ پہ شیؔدا خسارہ واجب ہے
غم کا کوئی نہیں ازالہ تھا

0
1