| نہ ہی غمخوار ہے کوئی نہ مسیحا اپنا |
| خود اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں جنازہ اپنا |
| پست گر آج ہے تو کیا ہوا ان شاء اللہ |
| ایک دن چمکے گا قسمت کا ستارہ اپنا |
| یہ محبت ہے یہاں اول و آخر ہے وہی |
| ہم بدل سکتے نہیں دوسرا قبلہ اپنا |
| جھانکتے رہتے ہیں اوروں کے گریبانوں میں |
| پر کبھی ہم نے گریباں نہیں دیکھا اپنا |
| تب یہی لوگ برائی پہ اتر آئیں گے |
| کر نہ پائیں گے یہ قد ہم سے جب اونچا اپنا |
| وہ اٹھاتے ہیں مرے حسب و نسب پر انگلی |
| جن کا مشکوک ہے خود پشتوں سے شجرہ اپنا |
| کہیں رخسار پہ دو تین نہ رکھ دے کوئی |
| ٹھیک کرلے ابے کمبخت یہ لہجہ اپنا |
| یہ الگ بات ہے میسیج نہیں کرپاتے ہیں |
| تجھ سے غافل نہیں رہتا کوئی لمحہ اپنا |
| اب تو ہجرت بھی نہ ہو پائے گی ہم سے کاظم |
| اور دشوار ہے اس ملک میں جینا اپنا |
معلومات