نہ ہی غمخوار ہے کوئی نہ مسیحا اپنا
خود اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں جنازہ اپنا
پست گر آج ہے تو کیا ہوا ان شاء اللہ
ایک دن چمکے گا قسمت کا ستارہ اپنا
یہ محبت ہے یہاں اول و آخر ہے وہی
ہم بدل سکتے نہیں دوسرا قبلہ اپنا
جھانکتے رہتے ہیں اوروں کے گریبانوں میں
پر کبھی ہم نے گریباں نہیں دیکھا اپنا
تب یہی لوگ برائی پہ اتر آئیں گے
کر نہ پائیں گے یہ قد ہم سے جب اونچا اپنا
وہ اٹھاتے ہیں مرے حسب و نسب پر انگلی
جن کا مشکوک ہے خود پشتوں سے شجرہ اپنا
کہیں رخسار پہ دو تین نہ رکھ دے کوئی
ٹھیک کرلے ابے کمبخت یہ لہجہ اپنا
یہ الگ بات ہے میسیج نہیں کرپاتے ہیں
تجھ سے غافل نہیں رہتا کوئی لمحہ اپنا
اب تو ہجرت بھی نہ ہو پائے گی ہم سے کاظم
اور دشوار ہے اس ملک میں جینا اپنا

0
2
32
اچھا لکھا ہے کاظم صاحب

یہ محبت ہے یہاں اول و آخر ہے وہی
تم بدل سکتے نہیں دوسرا قبلہ اپنا
--- یہاں تم کے بجائے "ہم" زیادہ بہتر ہے

جھانکتے رہتے ہیں اوروں کے گریبانوں میں
پر کبھی ہم نے گریبان نہ دیکھا اپنا
--- پر کبھی ہم نے گریباں نہیں دیکھا اپنا - زیادہ رواں ہوگا

وہ اٹھاتے ہیں مرے حسب و نسب پر انگلی
جن کا مشکوک ہے خود پستوں سے شجرہ اپنا
-- آپ پُشتوں سے لکھنا چاہ رہے ہیں یہاں، نہ کہ پستوں سے

کہیں رخسار پہ دو تین نہ رکھ دے کوئی
ٹھیک کرلے ابے کمبخت یہ لہجہ اپنا
---- یہ غیر سنجیدہ شعر آپ کی غزل کے مزاج کا نہیں ہے


0
بہت شکریہ سر

0