| مجھ میں پیدا وہ کیسا گماں کر گیا |
| وہ زمیں کو مری آسماں کر گیا |
| وہ تعلق کا دے کر گیا آسرہ |
| آدھی دیواروں کو وہ مکاں کر گیا |
| وہ دکھا کے گیا مجھ کو ایسی ادا |
| بس حوالے مرے اک جہاں کر گیا |
| ایسے انداز سے ہے ملائی نظر |
| کچھ نہ بولا مگر پھر بھی ہاں کر گیا |
| پرسکوں پانیوں میں ہے ہلچل مچی |
| میرے جذبات کو وہ جواں کر گیا |
| ایسا اعجاز اس کی نگاہوں میں تھا |
| وہ خیالوں کو میرے رواں کر گیا |
| اب تری اس فراغت کے دن بھی گئے |
| پھر ملاقات کی وہ زباں کر گیا |
| ایک لمحہ کہ اس سے نظر جو ملی |
| میری خاموشیوں کو بیاں کر گیا |
| خود کو مجھ پر کوئی دسترس جو نہ تھی |
| مجھ کو مجھ پر ہی آ کے عیاں کر گیا |
| اس کے جانے کا تجھ کو ہمایوں ہے دکھ |
| پر تجھے جاتے میں خوش گماں کر گیا |
| ہمایوں |
معلومات