حد بے حِسی کی گرچہ بتائی نہیں گئی
کس نے کہا فلک پہ دُہائی نہیں گئی
دے کر رکھی تھیں سب نے ہی کانوں میں انگلیاں
کہتے ہیں داستان سنائی نہیں گئی
تھی روشنی ہنوز مگر شہر سو گیا
پھر صبح تو کسی کو دکھائی نہیں گئی
سچ بولنے کا حوصلہ وہ تھا ہی کس کے پاس
تصویر اصل سامنے لائی نہیں گئی
دیوارِ شہرِ جبر پہ تحریر اک لکھی
پھر وہ عدالتوں سے مٹائی نہیں گئی
دل میں تو گو چراغ بھی روشن ہوئے بہت
تاریک رات گھر سے ہٹائی نہیں گئی
بازار میں دکانیں سبھی جھوٹ کی کھُلیں
روزی کسی سے سچ کی کمائی نہیں گئی
ہم نے تو اپنے آپ کو آئینہ کر دیا
دنیا سے اپنی شکل چھپائی نہیں گئی
رشتوں کی بات تھی ہی نہیں ختم ہو گئی
وہ عمر بھر کسی سے نبھائی نہیں گئی
ہر شخص اپنے اپنے حصاروں میں قید تھا
کوئی بھی دل کی بات بتائی نہیں گئی
طارق یہ شہر اہلِ سماعت کا شہر تھا
پھر کیوں کسی سے بات اٹھائی نہیں گئی

0
8