یَہ جو ہاتھ میں تیرے میرا ہاتھ باقی ہے
تیرے ذہن میں گویا ، کوئی بات باقی ہے
۔
عِشق میں فنا ہونا ، تُو کہاں سَمَجھ پایا
تُجھ میں ذات سے اپنی اِلتِفات باقی ہے
۔
عِشق کو سَمَجھتا ہے گَر دَھرم تو پِھر یہ کیوں
تُجھ میں غَیر باقی ہے ، ذات پات باقی ہے
۔
کاٹ دی ہے شَہ رَگ گو ، پَر ذرا ٹھہَر جاؤ
کیوں کہ تیرے بِسمِل میں کُچھ حیات باقی ہے
۔
عُمر بَھر مُدثّر زَخم وہ مِلے کہ بَعد اَز مَرگ
دَرد کی کَسَک میں اَب بھی ثَبات باقی ہے

0
5