| تقدیر ہم سے لیتی کوئی مشورہ نہیں |
| یہ زیست کا مذاق بہت بدمزہ نہیں؟ |
| خود سے کیا ہے ترکِ تعلق ، سو اب مرا |
| قول و عمل سے اپنے کوئی واسطہ نہیں |
| اس راہبہ کے دل سے کلیسا نکل گیا |
| نکلی کبھی کلیسا سے جو راہبہ نہیں |
| میں خوابیاب ہونے پہ رہتا ہوں مطمئن |
| مجھ سا کوئی جہاں میں خرد باختہ نہیں |
| آخر اکیلا کر گیا جاں سے عزیز دوست |
| لیکن یہ کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں |
| فاتح کے روپ میں اسے دیکھا ہے بارہا |
| ہوتا ہے جس کے پاس قلم ، اسلحہ نہیں |
| دنیا کو میں نے تابعِ فرماں کیا قمرؔ |
| سو ڈالتی دماغ میں اب وسوسہ نہیں |
| قمرآسیؔ |
معلومات