شر جو ہر سو پھیلاتا ہے
خود کو اچھا کہلاتا ہے
کانا پھوسی کی عادت سے
سب کو باہم لڑواتا ہے
کانوں کا جو کچا ٹھہرا
انگلی پر پھر نچواتا ہے
کتنا ظالم بندہ توبہ
فتنہ ہر سو پھیلاتا ہے
سب کے اوپر انگلی کرتا
پر خود اوجھل ہو جاتا ہے
رب جو اچھا رتبہ دے دے
اتراتا ہے اٹھلاتا ہے
سب کو لڑوا کر خوش ہونا
ایسے ظالم کو بھاتا ہے
رسا ڈھیلا چھوڑا رب نے
اس پر غافل اتراتا ہے
جس دن رسی کھینچی رب نے
اوندھے منہ پھر گر جاتا ہے
ایسی فطرت والا بندہ
سب کی نفرت ہی پاتا ہے
برسی جو فیضِؔ رب کی لاٹھی
فتنہ گر اب پچھتاتا ہے

0
5