درد دکھ غم کی کوئی دوا ہے کیا
پاس تیرے بھی ایسی وفا ہے کیا
تم بھی شاید کہ بیمارِ الفت ہی ہو
میری ہی طرح تم کو بھی گِلہ ہے کیا
رات بھر کیوں بدلتے ہو کروٹ یوں تم
درد کوئی تمہیں بھی ملا ہے کیا
فائدہ کچھ نہیں چارہ گر ہونے کا
زخمِ الفت کبھی بھی سِلا ہے کیا
مت گراؤ آنسو یوں دل کے صحرا میں تم
پھول پت جھڑ میں کوئی کھلا ہے کیا

0
5