ہوا کے ہاتھ سے جب اک چراغ بجھتا ہے
اندھیرا اپنے ہی سایوں سے جیت جاتا ہے
کسی کے دل میں تیقّن کی آبیاری کر
گماں کے بیج سے شک کا ہی پیڑ اُگتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے نکل پڑا لیکن
تری گلی سے ہر اک راستہ گزرتا ہے
عجیب لوگ ہیں پتھر کو پوجتے بھی ہیں
اور ایک آئینہ سینے میں خوف کھاتا ہے
وہ ایک حرف جو خاموشیوں میں زندہ تھا
صدا نہ آئے جو ہر سمت سے تو مرتا ہے
میں اُس کو بھول بھی جاؤں تو کس طرح آخر
وہ میری سانس کی خوشبو میں ہنستا بستا ہے
نہ جانے کون سی مٹی سے دل بنایا گیا
ہر ایک زخم میں اک خلفشار رہتا ہے
زمانہ جیت کے بھی مطمئن نہیں ہوتا
کوئی فقیر کبھی بادشہ بھی چُنتا ہے
یہ کس نے وقت کے دریا میں عکس ڈال دیا
اب اُس کا چہرہ ہی ہر لہر میں ابھرتا ہے
ہے طارِق اپنے سوالوں سے خود پریشاں پر
سفر سے آگے بھی کوئی سفر تو دِکھتا ہے

0
7