تُو خودی میں ہے جو بسا ہوا ، تو یہ عاشقی کا کمال ہے
ترے عشق کی ہو مثال کیا، یہ ازل سے ہی بے مثال ہے
میں ہوں عشق میں ترا ہو بہو، یہ خیال ہی کا کمال ہے
"ترے عشق سے ہوا مطمئن، مجھے بس ترا ہی خیال ہے"
میں خیال میں تجھے لا لیا، تو جمال کو ترے پا لیا
تو نے خود میں مجھ کو مِلا لیا، ترا میرا ایک سا حال ہے
جو خیالِ یار میں جل گیا، یوں وجود اس کا بدل گیا
وہ دوئی کی زد سے نکل گیا، یہ وصال ایسا وصال ہے
ہے مصوّری کا یہ معجزہ، کہ وصال ذات کی ہے جزا
ہُوا عشق سے یہ ہے پُر ضیا، یہ وصال بھی لا زوال ہے
ترا نقش دل پہ کُھدا ہوا، جو خیال سے ہے جما ہوا
میں کُھلا ہوں، تو ہے چھپا ہوا، تو خودی کے رخ کا جمال ہے
میں ذکیؔ سے جب بھی جدا ہوا، مجھے یار اپنا بنا لیا
مجھے اپنے آپ میں کیا فنا، نہ دوئی کا باقی سوال ہے

3