| زمیں پر جس کو ڈھونڈا اور تلاشا آسمانوں میں |
| وہی بے چہرگی میں آن ٹھہرا ہے دھیانوں میں |
| خوشی کے سارے معنی بے معانی ہوتے جاتے ہیں |
| اداسی حکمراں نے بانٹ ڈالی ہے کسانوں میں |
| یہاں پر دندناتے پھر رہے بدنام غارت گر |
| پٹا کرتے ہیں بس معصوم سے افراد تھانوں میں |
| لکھا کر ہم بھی لائے دوستو اشعار لوگو سے |
| ابھی کچھ روز، دیکھو گے ہمیں اونچی اڑانوں میں |
| توجہ ہو کہ ہم نے اک فسانے کی بنا ڈالی |
| "دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں" |
| ابھی جتنا بھی بدلو بات تم نے جو کہا اچّھا |
| کبھی نکلے ہوئے بھی تیر لوٹے ہیں کمانوں میں؟ |
| یقیں حسرتؔ اسے کیسے دلاؤں بے گناہی کا |
| کہ جس نے عمر بھر مجھ کو رکھا ہے بد گمانوں میں |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۸ مارچ، ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat199@gmail.com |
معلومات