زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنوں سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا ترے دن ہم گزاریں گے
تری ہر سرد آہٹ پر کسی کی یاد جاگے گی
مگر ٹوٹے ہوئے دل کو محبت سے سنبھالیں گے
بہت روکے گی یہ دنیا ہمیں ماضی کی گلیوں سے
مگر ہم تیرے دامن میں وہ لمحے ڈھونڈ لائیں گے
تری خاموش راتوں میں ستارے جگمگائیں گے
یوں اپنے دل کے ویرانے میں کچھ دیپک جلائیں گے
بہت دن ہو گئے خود سے بھی مل بیٹھے نہیں ہیں ہم
دسمبر تیرے سائے میں ذرا خود کو بھی پائیں گے
ہوا جب برف بن کر جسم کی دہلیز چھوئے گی
گزارے تھے جو قربت میں وہ لمحے یاد آئیں گے
ترے ہر ایک آنسو کو دعا کا رنگ دیں گے ہم
ترے ہر ایک غم کو بھی غزل میں گنگنائیں گے
کسی کی یاد کی خوشبو ابھی تک ساتھ چلتی ہے
ترے آنے پہ اُس خوشبو کو پھر دل میں بسائیں گے
یہ ٹوٹے خواب برسوں سے نگاہوں میں جو بکھرے ہیں
ترے دامن میں چُن چُن کر انہیں پھر سے اٹھائیں گے
زمانے کے کئی الزام تیرے سر پہ آئیں گے
مگر ہم تیرے سینے پر محبت لکھ کے جائیں گے
سنور پائے نہ ہم خود بھی مگر تجھ کو سنواریں گے
کہ مدہوشی کے عالم میں بھی تجھ کو ہی پکاریں گے
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنوں سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا ترے دن ہم گزاریں گے

0
5