| تری نگاہ میں اک رازِ آگہی دیکھا |
| میں اپنے آپ میں اترا تو تجھ کو ہی دیکھا |
| وہ ایک لمحہ کہ جب دل نے آنکھ کھولی تھی |
| تو کائنات کو تھا محوِ بندگی دیکھا |
| عجیب رنگ تھا تیری خموشیوں میں بھی |
| سکوتِ شب میں کوئی نغمہ سرمدی دیکھا |
| میں تیرے ہجر میں خود سے بھی دور ہوتا گیا |
| ترے وصال میں خود کو جو اجنبی دیکھا |
| چراغِ جاں کو ہوا کے سپرد کر کے ہی |
| فنا کے ہاتھ میں وقتِ سپردگی دیکھا |
| نہ جانے کون مری روح میں اتر آیا |
| بدن کو روح سے ہوتے نہیں قوی دیکھا |
| وہی تو عشق ہے جو ذات کو مٹا ڈالے |
| خود اپنے آپ کے اندر ترا ولی دیکھا |
| تلاشِ یار میں یہ عمر کٹ گئی طارق |
| جہاں بھی دل سے نظر کی اثر وہی دیکھا |
معلومات