خمارِ شوقِ شہزادہ نہیں ہے
نظر آمادۂ بادہ نہیں ہے
نہ جاؤ وقت کی معصومیت پر
بہت چالاک ہے سادہ نہیں ہے
ریاضی ہے نہیں دو چار کردیں
یہاں دو ایک ہوں آدھا نہیں ہے
میسر ہیں نئے مرہم بھی لیکن
پرانا درد آمادہ نہیں ہے
تجھے یا ہارنا یا جیتنا ہے
یہ بازی ہے کوئی وعدہ نہیں ہے
دلِ رقصِ جنوں بے دائرہ ہے
کسی شطرنج کا پیادہ نہیں ہے
نہیں اب بانسری بجتی ہے شؔیدا
کہیں اب ناچتی رادھا نہیں ہے

0
3