دل میں جو گرد ہے، اس کو اڑنے بھی دو
بند دریچوں کو اک دن تو کھلنے بھی دو
ایک موسم ہے جو گھر میں ٹھہرا ہوا
اس کو گلیوں کی آواز چھونے بھی دو
شہر دیوار پر کان رکھے ہوئے
اپنی آہٹ سے خود ڈر رہا ہے ابھی
کچھ دریچے ہیں جن میں دھواں بھر گیا
کچھ چراغوں میں آنکھیں جلی ہیں ابھی
نام دیوار پر لکھ کے مٹتے رہے
چہرے آئینوں سے بھی بدلتے رہے
کون اپنا تھا، کس نے صدا دی ہمیں
ہم انہی دائروں میں بھٹکتے رہے
پھر کسی موڑ پر ہم قدم مل گئے
اور خاموش رستے بھی چلنے لگے
ایک آواز تھی، دوسری آ ملی
دیکھتے دیکھتے اک صدا بن گئی
رات گہری رہی، راستہ کم رہا
پھر بھی قدموں کا موسم بدلتا رہا
صبح آئی تو دیوار خاموش تھی
اس پہ مٹی میں اک نقش زندہ رہا

0
5