جلوہ کوہ طور یاد آیا
پھر ملے تھے دو نور یاد آیا
فاصلہ تھا نہ درمیاں کوئی
یوں ملے تھے حضور یاد آیا
رب سے راز و نیاز کرتے ہوئے
رب ھب لی ضرور یاد آیا
رب نے انعام لازوال دیئے
رب وہ بے حد غفور یاد آیا
دیکھ کر مصطفی کا جود و سخا
اپنا ہر اک قصور یاد آیا
بحر ظلمات فیض تھی دنیا
نور حق کا ظہور یاد آیا

0
2