| غمِ الفت کے سانچے میں نہ یوں ڈھلتے تو اچھا تھا |
| چراغِ دل جلا کر ہم نہ یوں جلتے تو اچھا تھا |
| بڑی مدت سے آنکھوں نے کوئی سپنا نہیں دیکھا |
| نئے کچھ خواب آنکھوں میں اگر پلتے تو اچھا تھا |
| بہاریں جب بھی آئی ہیں اسی غم نے ستایا ہے |
| دلِ بنجر میں بھی کچھ گل نئے کھلتے تو اچھا تھا |
| یہ تنہائی، یہ خاموشی، یہ غمِ ہجر کی ساعت |
| قدم دو چار میرے ساتھ تم چلتے تو اچھا تھا |
| کہ ساگر اب یہی خواہش دلِ ناداں میں باقی ہے |
| اگر بچھڑے ہوئے رشتے کبھی ملتے تو اچھا تھا |
| شاعر: ساگرحیدرعباسی |
معلومات